نئی دہلی، 28 مئی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) سکم کرانتی کاری مورچہ (ایس کے ایم) کے صدر پی ایس گولے نے پیر کو وزیر اعلی کے عہدے کا حلف لیا۔گولے کا اصلی نام پریم سنگھ تمانگ ہے۔الیکشن نہیں لڑنے کی وجہ سے گولے اس وقت ریاستی اسمبلی کے رکن نہیں ہیں۔گنگٹوک اسٹیڈیم میں موجود ایس کے ایم ہزاروں حامیوں نے نیپالی زبان میں حلف برداری کرتے وقت 51 سال کی پارٹی قائد کے لئے نعرے لگائے۔سابق وزیر اعلی پون کمار چاملنگ اور سکم ڈیموکریٹک فرنٹ (ایس ڈی ایف) کے سینئر رہنماؤں نے حلف برداری کی تقریب میں شرکت نہیں کی۔2013 میں بنی ایس کے ایم نے 32 ارکان والی سکم اسمبلی میں 17 نشستیں جیت کر واضح اکثریت حاصل کی ہے۔ایس ڈی ایف نے 15 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ایس کے ایم نے 24 سے زیادہ سال تک اقتدار میں رہنے کے بعد چاملنگ حکومت کو اقتدار سے بے دخل کر دیا۔چاملنگ کی قیادت والے ایس ڈی ایف کے بانی رکن رہے گولے نے سابق وزیر اعلی کے خلاف بغاوت کرکے 2013 میں سکم کرانتی کاری مورچہ بنایا۔انہوں نے ایس ڈی ایف پر بدعنوانی اور بدانتظامی کا الزام لگایا تھا۔قیام کے اگلے ہی سال 2014 کے اسمبلی انتخابات میں ایس کے ایم نے 10 نشستیں جیتیں،اگرچہ، بدعنوانی کے ایک معاملے میں مجرم ٹھہرائے جانے کے پیش نظر نامزدگی مسترد کئے جانے کے ڈر سے گولے نے اس بار اسمبلی انتخابات نہیں لڑنے کا فیصلہ کیا۔نیپالی ماں باپ کالو سنگھ تمانگ اور دھان مایا تمانگ کے بیٹے گولے کی پیدائش پانچ فروری 1968 میں ہوئی تھی۔گولے نے دارجلنگ کے ایک کالج سے بی اے کیا اور ایک سرکاری اسکول میں استاد کے طور پر کام کرنا شروع کیا۔سماج کی خدمت کے لئے انہوں نے تین سال کی خدمت کے بعد سرکاری نوکری چھوڑ دی اور بعد میں ایس ڈی ایف میں شامل ہو گئے۔گولے کا تین دہائی کا سیاسی سفر اتار چڑھاؤ والا رہا ہے،وہ 1994 سے مسلسل پانچ بار سکم اسمبلی کے لئے منتخب ہوئے اور 2009 تک ایس ڈی ایف حکومت میں وزیر کے طور پر کام کیا۔ایس ڈی ایف حکومت کی چوتھی مدت (2009-14) کے دوران چاملنگ نے انہیں وزیر کے عہدے دینے سے ہٹا دیا اس کے بعد گولے نے پارٹی چھوڑ دی اور اپنی پارتی بنائی۔انہوں نے ایس ڈی ایف کے تمام عہدوں سے استعفی دے دیا اور ایس کے ایم سربراہ کے طور پر ذمہ داری سنبھالی۔2016 میں گولے کو 1994 اور 1999 کے درمیان سرکاری پیسے کی ہیرا پھیری کرنے کے لئے مجرم ٹھہرایا گیا تھا اور بعد میں اسمبلی میں ان کی رکنیت ختم کر دی گئی تھی۔51 سال کے گولے ریاست کے پہلے ایسے سیاستداں تھے جنہیں سزا ملنے کے بعد اسمبلی سے معطل کر دیا گیا تھا۔انہوں نے سکم ہائی کورٹ میں فیصلے کو چیلنج کیا جس نے فیصلے کو برقرار رکھا جس کی وجہ سے گولے کوجیل جانا پڑا۔2018 میں جب گولے جیل سے باہر نکلے تو ان کے ہزاروں حامیوں نے ان کا استقبال کیا اور اپنے رہنما کے تئیں یکجہتی دکھاتے ہوئے جلوس نکالا۔